لوٹ مار

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - قتل و غارت، مار کاٹ۔ "تاریک و غیر متمدن انسان نما حیوانوں کی بستیوں میں مزدور کسان کی دولت کی لوٹ مار کا آبائی کام ہاتھ میں لیا۔"      ( ١٩٨٨ء، غالب، جنوری، ٢٥٧ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اسم 'لوٹ' کے بعد ہندی اسم 'مار' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥٤ء کو "دیوان اسیر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - قتل و غارت، مار کاٹ۔ "تاریک و غیر متمدن انسان نما حیوانوں کی بستیوں میں مزدور کسان کی دولت کی لوٹ مار کا آبائی کام ہاتھ میں لیا۔"      ( ١٩٨٨ء، غالب، جنوری، ٢٥٧ )

جنس: مؤنث